سوال

ایک خاتون کومسئلے کا پتہ نہیں تھا اور وہ سنتوں کی تیسری، چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھتی رہی،اب اسےمسئلہ معلوم ہواتووہ پریشان ہوئی ،اس کی سابقہ نمازوں(سنتوں ) کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سنتوں اور نوافل کی تمام رکعات میں فاتحہ کے ساتھ قراءت واجب ہے،لہٰذا تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت نہ ملانے سے شفعہ ثانیہ باطل ہو گیا اورقضا صرف اسی شفعہ ثانیہ کی لازم ہے۔

لما فی المبسوط:(1/160،دارالمعرفۃ)
“والثانی اذا قرا فی الاولیین ولم یقرا فی الاخرین فعلیہ قضاء الاخریین.”
وفی بدائع الصنائع:(2/10،رشیدیہ)
“ثم انما یجب بافساد التطوع قضاء الشفع الذی اتصل بہ المفسد دون الشفع الذی مضی علی الصحۃ حتی لوصلی اربعا فتکلم فی الثالثۃ او الرابعۃ قضی الشفع الثانی دون الاول لان کل الشفع صلاۃ علاحدۃ، فساد الثانی لا یوجب فساد الاول بخلاف الفرض، لانہ کلہ صلاۃ واحدۃ فساد البعض یوجب فساد الکل.”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ:(34/38،علوم اسلامیہ) وکذا فی البحر الرائق:(2/99،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/473،رشیدیہ) وکذا فی ردالمحتار:(2/29،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441.18، 10جون2020

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔