سوال

میری ایک بیکری ہے ،کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان دار کے پاس مال خراب ہو جاتا ہے وہ ہمارے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ مال انسانوں کے کھانے کے قابل نہیں ہوتا اور ہمارے قریب میں کوئی ایسا نظم بھی ممکن نہیں ہے کہ جانوروں مثلا بھیڑ بکریوں کو کھلا دیا جائے ،تو کیا ہم اس مال کو جلا سکتے ہیں؟ جلانے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ مال جلد از جلد ٹھکانے لگ جائے ورنہ دو دن بعد وہ جلانے کے قابل بھی نہیں رہتا اور بیماریوں کا سبب بننے کے علاوہ متعلقہ محکمہ کی کاروائی کا باعث ہو سکتا ہے ،دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ اس طرح ہماری لکڑی کی بچت ہو جاتی ہے کہ مال بطور ایندھن استعمال ہو سکتا ہے۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر یہ ہے کہ یہ خراب مال جانوروں کو کھلانے کی کوئی صورت بنائی جائے ،اگر ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو جلایا جا سکتا ہے ۔

وفی”الفتاوی الھندیۃ”:(5/337،رشیدیۃ)
“ولو غسل یدہ او راسہ بالنخالۃ او احرقھا ان لم یبق فیھا شیئ من الدقیق وھی نخالۃ تعلف بھا الدواب لا باس بہ ۔”
وفی”شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر”:(1/102و106،ادارۃالقرآن)
“القاعدۃالثانیۃ:الاموربمقاصدھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔(بعدصفحات)وقالوا:الاکل فوق الشبع حرام بقصد الشھوۃ ،وان قصد بہ التقوی علی الصوم۔۔۔۔۔۔فمستحب۔”
وکذا فی”الفقہ الاسلامی وادلتہ”(4/2592،رشیدیۃ)
وکذا فی”البحرالرائق”(7/337،رشیدیۃ)
وکذا فی”المحیط البرھانی”(8/54،دار احیائ)
وکذا فی”الفتاوی التاتارخانیۃ”(18/135،فارقیۃ)
وکذا فی”الاشباہ والنظائر”(33،31،قدیمی)
وکذا فی”الترمذی”(2/443،رحمانیۃ)
وکذافی”البخاری”(1/99،رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 65

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔