سوال

ایک شخص کا موبائل گم ہو گیا اس نے منت مانی کہ جس نے بھی مجھے میرا موبائل لا کر دیا ،میں اس کو دس ہزار روپے دوں گا،دوسرے دن کسی نے موبائل لا کر دے دیا ۔ سائل کا سوال یہ ہے کہ میں پانچ ہزار اس کو اور پانچ ہزار کسی مسجد میں دے سکتا ہوں یا پورا دس ہزار اسی کو دوں ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں آپ کی یہ گفتگو منت نہیں بلکہ اللہ تعالی سے ایک وعدہ ہے اور ایسے وعدہ کو جلد پورا کرنا چاہیے ،مسجد میں اگر کچھ دینا ہو تو الگ سے دیں۔

لما فی “القرآن المجید”: سورۃالمائدۃ :
1
“یایھاالذین آمنو ا اوفوا بالعقود۔۔۔۔۔الخ”
ولما فی “الفتاوی التاتار خانیۃ”:(6/281،فاروقیۃ)
“والاصل فی ذالک ان کل ما کان لہ اصل فی الفروض لزمہ النذر بنذرہ ،وکل مالم یکن لہ اصل فی الفروض لا یلزم الناذر بنذرہ۔”
وکذافی التنویر مع شرحہ:(5/537،رشیدیۃ)
وکذافی الشامیۃ:(5/544،رشیدۃ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2555،رشیدیۃ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/350،طارق)
وکذافی بدائع الصنائع :(228،227،رشیدیۃ)
وکذافی المبسوط:(8/138،دارالمعرفۃ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،دار احیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(4/499،رشیدیۃ)
وکذافی البرجندی المسمی بالنقایا:(2/117،رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 78

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔