الجواب حامداً ومصلیاً
مذکورہ شخص اگر اپنے شہر سے شرعی سفر( 396،بحری میل )کے ارادے سے نکلے تو مسلسل قصر کرے گا ،اگرچہ اس طرح اسے سال گذر جائے، ہاں اگر کسی بندر گاہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کا ارادہ ہو یا یہ ملازم اس شہر کا رہائشی ہو اوروہ بندر گاہ شہر کا حصہ بھی سمجھی جاتی ہو ،تو وہا ں پوری نماز پڑھے ۔
لما فی الفتاوی التاتارخانیۃ: (2 /491و498 ،فاروقیۃ )
“وان کان السفرسفربحر،فقداختلف المشایخ ایضاوالمختارللفتوی ان ینظر الی السفینۃ کم تسیر فی ثلاثۃ ایام ولیالیھا حال استواء الریح فیجعل ذالک اصلا۔۔۔۔۔۔۔(قال بعد صفحۃ )ونیۃ الاقامۃ فی البحر والمفازۃ لا تصح. “
وفی الفتاوی الھندیۃ : (1 /139 ،رشیدیۃ )
” ونیۃ الاقامۃ انما تؤثر بخمس شرائط ۔۔۔۔۔۔۔وصلاحیۃ الموضع حتی لو نوی الاقامۃ فی بر او بحر او جزیرۃ لم یصح . “
وکذافی الدر المختار مع ردالمحتار: ( 2/729 ،رشیدیۃ )
وکذا فی البحر الرائق:(2/225و232،رشیدیۃ(
وکذافی بدائع الصنائع:(1/271، رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ :(27/285 ،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/139 ،رشیدیۃ)
وکذافی فتاوی قاضی خاں علی ھامش الفتاوی الھندیۃ :(1/164،رشدیدیۃ)
وکذافی ملتقی الابحر مع شرحہ مجمع الانھر:(1/239،المنار )
وکذافی خلاصۃ الفتاوی :(1/199،رشیدیۃ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :164