الجواب باسم ملہم الصواب
منگیتر سے تنہائی میں ملنا اور سالی سے زنا کرنا دونوں سنگین گناہ ہیں، اس پر خوب خوب توبہ و استغفار کرے البتہ منگیتر کی بہن (جس سے زنا کیا ہے )کو ایک حیض آنے کے بعد منگیتر سے نکاح کر سکتا ہے ۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(9/6666،رشیدیۃ )
وان زنی الرجل بامراۃ فلیس لہ ان یتزوج باختھا حتی تنقضی عدتھا
وفی البحر الرائق:(3/180،رشیدیۃ)
لو زنی باحد الاختین لا یقرب باخری حتی تحیض الاخری حیضۃ
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:) 2/74،الطارق(
وکذا فی محیط البرھانی:(4 /86،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)4 /49،فاروقیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 2/536، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:) 3/163،رشیدیۃ(
وکذافی اعلا ء السنن :11/132،ادارۃ القرآن
وکذافی التنویر وشرحہ:) 4/113،رشیدیۃ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18فتوی :58