سوال

چھوٹے بچے کے کان میں فجر والی اذان دی جائے یا دوسری اور کیسے دی جائے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

بچے کے کان میں عام اذان دی جائے ،نہ کہ فجر والی ۔طریقہ یہ ہےکہ بچے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر قبلہ رُو کھڑا ہو اجائے اوردائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے ۔”حی علی الصلاۃ“کہتے ہوئے دائیں طرف اور ”حی علی الفلاح “کہتے ہوئے بائیں طرف اپنا چہرہ پھیرا جائے ۔

لما فی جامع الترمذی :(1/410،رحمانیۃ)
“عن عبیداللہ ابن ابی رافع عن ابیہ قال رایت رسول اللہ ﷺاذن فی اذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃبالصلاۃھذا حدیث صحیح والعمل علیہ ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2750،رشیدیۃ )
“یستحب للولد ان یؤذن فی اذن المولود الیمنی ،وتقام الصلاۃ فی الیسری حین یولد لما روی ابو رافع ان النبی ﷺ اذن فی اذن الحسن ،حین ولدتہ فاطمۃ۔”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ :(2/373،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/446،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(197،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:(2/67،رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(1/387،رشیدیۃ)
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/90،قدیمی)
وکذا فی تقریرات رافعی علی ھامش شامیۃ:(2/66،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :150

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔