الجواب باسم ملہم الصواب
(1)بہتر یہ ہے کہ کپڑے بدل لیے جائیں یا جہاں مذی لگنے کا گمان ہے وہ جگہ دھو لی جائے ،اگر اس بات کا غالب گمان ہو کہ مذی ایک درہم (ایک روپے والے بڑے سکے )سے زیادہ لگی ہے ،تو پھر کپڑے بدلنا یا دھونا ضروری ہے ۔
(2)نماز مکروہ ہو گی۔
(3)نماز پڑھ لینے کے بعد یاد آیا تو اگر نجاست ایک درہم سے زیادہ ہے تو نماز نہیں ہوئی ،ورنہ ہو گئی۔
لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/43،رشیدیۃ)
“اذا تنجس طرفا من اطراف الثوب و نسیہ فغسل طرفا من اطراف الثوب من غیر تحر حکم بطھارۃ الثوب ھو المختار ۔فلو صلی مع ھذا الثوب صلوات ثم ظھر ان النجاسۃ فی طرف آخر یجب علیہ اعادۃ صلوات التی صلی مع ھذاالثوب ۔”
وفی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/203،رشیدیۃ )
“اذا کانت قدر الدرھم (جازت الصلاۃ معہ )وقولہ ومادونہ مستغنی عنہ (وان زاد لم تجز ۔۔الخ)۔”
وکذا فی الھندیۃ:(43 /1،رشیدیۃ) وکذا فی المحیط البرھانی:(1 /371،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)1/428،فاروقیۃ) وکذافی بدائع الصنائع:(1 /193، رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1 /232و236، رشیدیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(1 /192،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(1 /571،رشیدیۃ) وکذافی تبیین الحقائق:(1 /73،امدادیۃ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:31