الجواب باسم ملہم الصواب
پہلی بیوی کو اتنا خرچ دیں جس سے وہ اپنی جائز ذاتی ضروریات پوری کر سکے ۔ بیٹے اور کنواری بیٹیو ں کا تعلیمی،علاج و معالجہ اور خوراک وغیرہ کا خرچ آپ پر ہے ۔اور طلاق یافتہ بیٹی کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے ۔
دوسری بیوی کو عدالت کا مقررکیا ہو اخرچ دیں ۔وہ اگر کسی عذر یا آپ کی رضا مندی سے میکے رہ رہی ہے تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے، ورنہ نہیں ۔
لما فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(13/358،فاروقیۃ)
تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ المسلۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھااو لم یدخل بھا ۔والنقۃ الواجبۃ :الماکول والملبوس، والسکنی ۔۔۔۔۔وفی جامع الجوامع :والنفقۃ الواجبۃ :الاکل والشرب، واللبس ،والسکنی والرضاع وکذا خادم تحتاج الیہ.
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/237،الطارق)
“و تقدر النفقۃ بحال الزوج والزوجۃ ، فان کان موسرین فتجب نفقۃ الیسار .”
وفیہ ایضاً:
ان للمراۃ ان تنفق من مال زوجھا علی نفسھا وعیالہ بدون اذنہ بالمعروف ، ففی الحدیث عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ھذا بنت عتبۃ قالت :یا رسول اللہ ان ابا سفیان رجل شحیح ۔۔۔۔فقال رسول اللہ ﷺ خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف.”
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/238،الطارق)
وھل تسقط نفقتھا اذا عملت خارج منزل زوجھا؟الظاھر انھا اذاعملت
باذن زوجھالاتسقط نفقتھا.
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/431، رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(5/286،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(5/314،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/297،رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(41/50،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 545/،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 565/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 3/627،سعید)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1440،2019/4/18
جلد نمبر : 19فتوی نمبر :39