سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہو ں ۔میں نے پہلی شادی 1991میں کی جس میں سے میری تین بیٹیاں ہیں،جبکہ دوسری شادی 2007میں کی جس میں سے ایک بیٹا ہے ۔میری تینوں بیٹیوں میں سے دو بیٹیاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں ،تیسری بیٹی کی شادی تقریبا 4سال قبل کر دی لیکن اسے طلاق ہو گئی ۔اس کے پاس ایک بیٹا ہے ۔میری پہلی بیوی ٹیچر تھی ،وہ پنشن تقریبا 75500وصول کر رہی ہے ۔دوسری بیوی بھی پرائیویٹ سکول میں ٹیچر ہے ۔تنخواہ کا پتا نہیں ۔بیٹےکی عمر 10سال ہے ،جبکہ بیٹیوں کی عمر 20،25،27سال ہے ۔میری تنخواہ تقریبا 91500ماہوارہے دیگر ذرائع آمدنی نہیں ہے ۔دوسری بیوی سے صلح بذریعہ عدالت مورخہ 2014۔06۔02کو ہوئی ۔عدالت نے 7000ماہوار خرچ مقرر کیا تھا ۔میری پہلی بیوی، بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں لاہور میں رہائش پذیر ہے ،جبکہ دوسری بیوی اپنے میکےپاک پتن میں رہتی ہے اور دیپالپور نہیں آتی ۔میں اکیلا دیپالپور میں رہتا ہوں ،کیونکہ میری نوکری دیپالپورمیں ہے ۔آپ سے گذارش ہے کہ مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے کہ میں اپنی دونوں ازواج کو کیا خرچہ دوں ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

پہلی بیوی کو اتنا خرچ دیں جس سے وہ اپنی جائز ذاتی ضروریات پوری کر سکے ۔ بیٹے اور کنواری بیٹیو ں کا تعلیمی،علاج و معالجہ اور خوراک وغیرہ کا خرچ آپ پر ہے ۔اور طلاق یافتہ بیٹی کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے ۔
دوسری بیوی کو عدالت کا مقررکیا ہو اخرچ دیں ۔وہ اگر کسی عذر یا آپ کی رضا مندی سے میکے رہ رہی ہے تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے، ورنہ نہیں ۔

لما فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(13/358،فاروقیۃ)
تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ المسلۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھااو لم یدخل بھا ۔والنقۃ الواجبۃ :الماکول والملبوس، والسکنی ۔۔۔۔۔وفی جامع الجوامع :والنفقۃ الواجبۃ :الاکل والشرب، واللبس ،والسکنی والرضاع وکذا خادم تحتاج الیہ.
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/237،الطارق)
“و تقدر النفقۃ بحال الزوج والزوجۃ ، فان کان موسرین فتجب نفقۃ الیسار .”
وفیہ ایضاً:
ان للمراۃ ان تنفق من مال زوجھا علی نفسھا وعیالہ بدون اذنہ بالمعروف ، ففی الحدیث عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ھذا بنت عتبۃ قالت :یا رسول اللہ ان ابا سفیان رجل شحیح ۔۔۔۔فقال رسول اللہ ﷺ خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف.”
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/238،الطارق)
وھل تسقط نفقتھا اذا عملت خارج منزل زوجھا؟الظاھر انھا اذاعملت
باذن زوجھالاتسقط نفقتھا.
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/431، رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(5/286،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(5/314،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/297،رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(41/50،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 545/،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 565/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 3/627،سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1440،2019/4/18
جلد نمبر : 19فتوی نمبر :39

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔