سوال

کفار سے محبت بھی نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں ان سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور نفرت بھی انسانیت کے ناطے نہیں کرنی چاہیے۔ اب درمیان والی کونسی کیفیت ہو جس کو اپنایا جائے؟ اس کیفیت کی وضا حت کر دیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

کافروں سے ان کے کفر پر ہوتے ہوئے نہ تو دلی محبت و الفت ہونا چاہیے اور نہ ہی آدمی کے افعال ومعاملات سے ان کافروں کے ساتھ بغض و عداوت ظاہرہونا چاہیے بلکہ دل میں اس لیے رحم ہونا چاہیے کہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے ، یہ جہنم کی آگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اس وجہ سے ان کے ساتھ معاملات کو نرم رکھنا چاہیے، اس سلسلہ کی بہترین تقریر و تحریر حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ “معارف القرآن” میں فرماتے ہیں:
”دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودّت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔۔۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔۔۔چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔

(معارف القرآن : 2/51،50 ، ادارۃ المعارف،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :31

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔