الجواب حامداً ومصلیاً
آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ کان میں دوا ڈالنے سے جدید تحقیق کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔
”جدید طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کان سے حلق یا دماغ تک کوئی کھلا سوراخ نہیں کہ جس سے کان میں ڈالی گئی دوا یا تیل دماغ یا حلق میں پہنچ جائے اور قدیم فقہ کی کتابوں میں روزہ فاسد ہونے کی بنیاد یہی سمجھی گئی تھی، مگر اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ راستہ نہیں تو فسادِ صوم کا حکم بھی نہ ہوگا۔ ھکذا حقق الشیخ رشید احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ومشایخ دارالعلوم کراتشی وبہ أفتوا، واﷲ اعلم۔
حاشیہ تسھیل بہشتی زیور:1/436، الحجاز
وفی الفتاوی الھندیہ: (1 /203 ،رشیدیہ )
ولو أقطر شيئا من الدواء في عينه لا يفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لا يفسد صومه كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 28/71 ،علوم اسلامیہ )
الاكتحال غير مكروه عند الحنفية والشافعية، بل أجازوه، ونصوا على أنه لا يفطر به الصائم ولو وجد طعمه في حلقه، قال النووي: لأن العين ليست بجوف، ولا منفذ منها إلى الحلق
وکذافی سنن ابی داؤد: ( 1/344 ،رحمانیہ ) وکذا فی تبیین االحقائق : (1 /323 ،امدادیہ-ملتان )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3 /1710 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
یا دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:32