سوال

نفاس میں اگر کوئی تین طلاق دے دے تو یہ طلاق بدعت شمار ہوگی یا نہیں

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ طلاق بدعت ہوگی۔

لما فی الشامیہ: (4 / 426 ،دار المعرفہ )
” (قوله والنفاس كالحيض) قال في البحر، ولما كان المنع من الطلاق في الحيض لتطويل العدة عليها كان النفاس مثله كما في الجوهرة. “
وفی الموسوعہ الفقھیہ: (29 / 34،علوم اسلامیہ )
وما سوی ذلک فبدعی عندھم، کان یطلقھا مرتین او ثلاثا فی طھر واحد معا او متفرقات، او یطلقھا فی الحیض او النفاس .
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 / 6951، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: (3 /449 ،رشیدیہ )
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ: (2 /100 ،حقانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : ( 3/153 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/349 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5-09-1440، 2019-05-11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :44

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔