سوال

اگر جانور ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

بھول کر بسم اللہ چھوٹنے سے وہ جانور حلال ہوجاتا ہے مگر جان بوجھ کر چھوڑ دینے سے حرام ہو جاتا ہے

لما فی رد المحتار:( 9/499، دار المعرفہ)
(قوله فإن تركها ناسيا حل) قدمنا عن الحقائق والبزازية
أن في معنى الناسي من تركها جهلا بشرطيتها۔
وفی الفتاوی الھندیة:( 5/288، رشیدیہ)
“ولا تحل ذبيحة تارك التسمية عمدا، وإن تركها ناسيا تحل۔”
وکذا فی المبسوط :(11/236، دار المعرفہ)
وکذا فی فتح القدیر: (9/500، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن: (17/66، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذ افی تکملة البحر الرائق :(8/308، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (17/401، فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (5/182،الطارق)
وکذا فی تبیین الحقائق :(5/288، امدادیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (4/168،167، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1440،19/12/2018
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:63

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔