سوال

میرا نام عطاءاللہ ہے ،اور میں ہڑپہ کا رہائشی ہوں ۔میری بہن کی شادی 1994میں عبداللہ نامی شخص سے ہوئی جوکہ عارف والا کے قریب چک 39/E.Bمیں کارہائشی تھا اور ہمارا دور کا رشتہ دار تھا ۔میری بہن کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے جوکہ پیدائش کے چند ماہ بعد یکے بعد دیگرے فوت ہوگئے اس کے بعد ایک بیٹی 1997 میں پیدا ہوئی ابھی وہ چارماہ کی تھی کہ اس کی والدہ یعنی میری بہن فوت ہوگئی۔میرے بہنوئی کااور کوئی بھائی بہن یا قریبی رشتہ دار نہ تھا وہ اکیلا39/E.Bمیں میں رہتا تھا ۔ اس کی کوئی جائیداد نہ تھی حتی کہ رہائش کی جگہ بھی کسی زمیندار کی ملکیت تھی وہ ٹھیکہ وغیرہ پر زمین لیتاتھا اور بھینس وغیرہ رکھتا تھا جس سے اس کی گزر بسر ہوتی تھی ۔میری بہن کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ہمارے پاس رہی ہم نے اس کی پرورش کی ، میری ایک چھوٹی بہن ہے وہ اس کی دیکھ بھال کرتی رہی ذرا بڑی ہونے پر اسے اسکول داخل کروادیااور اس نےF.Aتک تعلیم حاصل کی ۔اس دوران اس کا باپ یعنی میرا بہنوئی عبداللہ نےبیٹی کا کوئی خیال نہ کیا اور نہ ہی خرچہ وغیرہ دیا ۔صرف ایک دفعہ اس نے دوہزار روپے دیا۔ میری بہن کی وفات کے بعد عبداللہ کی خواہش تھی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کا رشتہ ا س سے کردوں ، مگر ہم نے انکار کیا ۔اس بات کا بھی اسے رنج تھا اور اس نے ہم سے یا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہ رکھا اور کبھی ہماری غمی خوشی پر بھی نہ آیا البتہ ہمیں اس کا پتہ چلتا رہتا تھا اور ہم کئی بار اس کے پاس بھی گئے۔ جب اس کی بیٹی جوان ہوئی اور کالج میں داخلہ لینا تھا تو اس کے باپ کے شناختی کارڈ کی ضرورت تھی تو ہم اس کے پاس گئے اور گاؤں والوں کے کہنے پر بڑی مشکل سے اس نے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دی ۔بنیادی طور پر عبد اللہ ضدی،کنجوس طبع کا مالک تھا ۔وہ ان پڑھ تھا اور دین سے کوسوں دور تھا ۔ اس کے گھر کے بالکل ساتھ مسجد تھی ،جو کہ بڑی جامع مسجد تھی ۔اس کی شکل وشباہت بھی دین کے بر عکس تھی یعنی داڑھی وغیرہ نہ تھی ۔اور اس نے کبھی مسجد کی خدمت نہ کی تھی ۔اس نے کبھی دس روپے بھی مسجد کو نہ دیے تھے۔ ہم نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بہن کو جہیز دیا تھا اور کچھ سونا ہم نے ڈالا تھا البتہ زیادہ زیور اس نے شادی کے موقع پر ڈالا تھا۔ ہماری بہن کی وفات کے بعد ہم نے جہیز کا سامان اور سونا واپس نہیں لیا تھا کیونکہ وہ جہیز کا سامان پر ماسوائے سونا کے واپس کرنے پر تیار تھا مگر میرا مطالبہ سونے کا بھی تھا کہ واپس کرے ۔ہمارا خیال تھا کہ جب بچی کی شادی ہوگی تو یہ سب اس کو مل جائے گا ،تقریبا بیس سال میں وہ ایک دو دفعہ ہمارے پاس ہڑپہ آیا۔اور ہم کئی بار گئے ،اس کی بیٹی کو بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ دو چار سال پہلے پتا چلا کہ وہ بیمار ہے تو ہم اس کے پاس گئے تھے، دو چار ماہ قبل پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے، ہم اس کے پاس گئے اس کی بیٹی بھی ساتھ تھی اور اسے کار میں ڈال کر ہڑپہ لے آئے ،دس بارہ دن وہ ہمارے پاس ٹھہرا وہ بالکل لاغر تھا کیونکہ اسےT.Bتھی ۔اس دوران اس کے گاؤں کےبھی کچھ لوگ اس کا پتہ کرنے ہمارے پاس ہڑپہ آئے ،اس سے ہم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا کچھ ہے ؟تو وہ صحیح نہیں بتاتا تھا ۔البتہ اس نے کہا کہ آپ کو مل جائے گا لیکن دینے پر رضا مند نہیں ہوتا تھا کہ میری باقی زندگی کیسے گزرے گی؟ جب میں ٹھیک ہو جاؤں گا تو یہ استعمال کروں گا اور یہ بھی کہتا تھا کہ میرے بعد سب کچھ بچی کو مل جائے گا۔ لیکن موقع پر دینے سے گریز تھا ۔اسے مرنے کا یقین نہ تھا ، اور مال سے پیارتھا ۔ جب ہم اسے 39/E.Bمیں سے لے کر آئے تو اس کا یہاں دل نہ لگتا تھا اور ہمیں کہا کہ مجھے واپس چھوڑ آؤ۔ ہم اسے واپس اس کے گاؤں چھوڑ آئے ۔ وہ کبھی کسی کے گھر اور کبھی کسی کے گھر رہتا تھا ۔ کیونکہ اس کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار نہ تھا البتہ گاؤں کے لوگ اچھے تھے اور کوئی نہ کوئی اسے اپنے پاس رکھ لیتاتھا۔ جن کے پاس ہم اسے چھوڑکر آئے تھے وہ بھی اس سے تنگ تھے کیونکہ وہ مریض ہونے کے ساتھ ساتھ بدمزاج بھی تھا۔ وہ کب تک برداشت کرتے بالآخر وہ اسے ساہیوال چیک کرانے کے بہانے کار میں ڈال کر ہمارے پاس ہڑپہ چھوڑنے آئے مگر وہ واپس جانے پر اصرار کرتا رہا ۔ تو انہوں نے کہاکہ ہم آج رات ہڑپہ کے علاقے میں کسی دوست کے پاس ہیں کل صبح آپ کو لے جائیں گے ۔وہ یہ بہانہ کرکے چلے گئے اور اگلی صبح واپس نہ آئے ۔ تو پھر دو تین دن کے بعد اس نے کہا کہ خرچہ میں کرتا ہوں اور مجھے واپس چھوڑآؤتو ہم اسے پھر واپس 39/E.Bمیں کسی اور کے گھر جہاں اس نے کہا چھوڑ آئے اب تقریبا دوماہ بعد اس نے کئی گھر تبدیل کیے اسی دوران تقریبا بیس روز قبل گاؤں کےخالد نامی شخص نےجس کے پاس اس کا مال تھا فون کیا کہ اب عبداللہ راضی ہوگیا ہے آپ آئیں مال لے جائیں مگر ہم نہیں گئے کیونکہ وہ پہلے بھی کہتاتھا مگر مال نہیں دیتا تھا ۔ آج سے تقریبا پندرہ دن قبل خالد وغیرہ نے اس کا مال اور روپے گن کر واپس کردیے تو وہ مال مشتاق نامی شخص کے پاس لے گیا ۔ اس سے قبل مسجد کے امام اور زمان نامی شخص کے پاس بھی مال رکھنا چاہا مگر انہوں نے نہ رکھا تو عبداللہ نے مشتاق کے پوتے اسامہ کو ساتھ لیا موٹر سائیکل پر دو کلومیٹر دور گاؤں 31/E.Bکے حاجی سرور ارائیں کے حوالے کردیا۔ بقول اسامہ کے عبداللہ نے سرور کو کہا کہ یہ مال آپ رکھیں، حاجی سرور جس کا گاؤں میں مدرسہ ہے ۔ اب مال رکھنے کے تقریبا دس دن بعد فون آیا کہ عبداللہ فوت ہوگیا ہے ۔ اب کیا کرنا ہے؟ ہم نے پوچھا کہ اس نے کیا وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس نے کہا تھا کہ مجھے وہاں نہ بھیجنا اور یہیں دفن کردینا ۔ پھر ہم گئے اور جنازہ کروایا اور دفن کردیا۔ تو اس وقت لوگوں نے کہاکہ اس کا مال سرور کے پاس ہے، کچھ مال غلام فرید کے پاس ہے جس کے گھر وفات ہوئی ۔ اور کچھ مال یوسف جھجھے کے پاس ہے۔ جو انہوں نے دے دیا ہے۔گاؤں کے کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ اس نے کہا ہو کہ میرا مال مسجد یا مدرسے کو دے دینا۔ تین دن کے بعد ہم حاجی سرور کے پاس گاؤں کے معززین اور نمبر دار کو لے کر گئے۔ اسامہ بھی ساتھ تھا۔ گاؤں والوں نے حاجی سرور کو کہا کہ عبداللہ کی بیٹی ، اس کا ماموں اور خالو آئے ہیں، یہ مال اب بیٹی کا ہے کہ آپ کی بیوی کے پاس اپنی خالہ کے ساتھ بیٹھی ہے ۔آپ یہ واپس کردیں تو حاجی سرور نے کہا کہ میں یہ مال واپس نہیں کرتا کیونکہ عبداللہ نے کہا تھا کہ میرے بعد مال مدرسے کو دے دینا۔ تو ہم نے حاجی سرور سے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ آپ کے پاس ہے؟ تو اس نے کہا کہ کوئی گواہ نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ اسامہ ہے جو عبداللہ کے ساتھ آیا تھا ۔ وہ تھا؟ اس نے کہا وہ ساتھ تھا۔ تو اسامہ سے پوچھا کہ جب آپ مال رکھنے آئے تھے تو کیا بات ہوئی ؟ تو اسامہ نے بتایا کہ عبداللہ نے کہا تھا کہ آپ یہ مال رکھیں اور آپ نے ہی کرنا ہے جو کریں۔ تو حاجی سرور نے کہا کہ اگر یہ مال مدرسے کو دے دیں؟ تو عبداللہ نے کہا کہ آپ نے ہی کرنا ہے جیسے چاہیں۔ عبداللہ کا مدرسے کو مال دینے کا ہرگز ارادہ، نہ تھابلکہ اسے حاجی سرور پر یہ اعتماد تھا کہ میرا مال ضائع نہیں ہوگا اور اگر میں بچ گیا تو مجھے یہ مل جائے گا۔ عبداللہ نے اپنی بیٹی کا ذکر حاجی سرور کو نہیں کیا تھا۔ اب حاجی سرور سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ جیسے مفتی صاحب فتوی دیں ویسے کریں گے۔ اب کیا کرنا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت حال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرحوم عبد اللہ نے حاجی سرور کو اپنے مال کا وکیل بنا کر اسے ہر قسم کے تصرف کا حق دے رکھا تھا اور حاجی سرور کے مدرسے ،سے متعلق بات کرنے پر اس کا یہ کہنا “آپ نے ہی کرنا ہے جو کرنا چاہیں ” یہ اس مال سے متعلق وصیت ہے اور یہ وصیت ایک تہائی مال تک نافذ ہوگی ۔ لہذا بندے اور اللہ کے درمیان جو معاملہ ہے اس کے لحاظ سے ورثاء اس مال کا دوتہائی(3/2) اپنے پاس رکھ لیں اور ایک تہائی(3/1)حاجی سرور کے حوالے کردیں ۔
فتوی کی رو سے جو حکم تھا وہ تحریر کر دیا گیا ۔ اب اگریہ معاملہ عدالت میں جائے تو گواہی پوری نہ ہونے کی وجہ سے قاضی اس اعتبار سے فیصلہ تبدیل بھی کرسکتا ہے۔

لما فی سورۃ النساء:(58)
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔۔۔۔۔”
و فی شرح المجلۃ:(3/294،رشیدیۃ)
“المادۃ802۔]اذا مات المودع تسلم الودیعۃ لوارثہ[“
وفی التاتار خانیۃ:(19/381،فاروقیۃ)
“رجل اوصی بجمیع مالہ للفقراء ، او لرجل بعینہ لا تجوز الا من الثلث۔۔۔”
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /354، رشیدیة)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ مع رد المحتار:(8 /526 ،دارا لمعرفۃ)
وکذا فی درر الحکام :(2/330،المکتبۃ العربیۃ)
وکذا فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ:(154،قدیمی)
وکذا فی المبسوط:(11/131،130، دار المعرفة)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(43/33، علو م اسلامیۃ)
وکذافی کذا فی التاتار خانیۃ:(16/ 51،فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440
9/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :82

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔