سوال

ایک عورت فوت ہوئی اس نے ایک شیر خوار بچہ چھوڑا اس بچے کو ایک ایکڑ زمین میراث میں ملی عورت کے بھائیوں نے وہ زمین اپنے اپنے پاس رکھ لی اس کے چار بھائی تھے ۔ بیس سال گزرنے کے بعد اس بچے نے جبکہ وہ عاقل بالغ ہو چکا تھا مطالبہ کیا۔ اب عورت کے بھائیوں نے کہا کہ تم ایک ایکڑ کاٹھیکہ جو کہ 48000ہے لے لیا کرو اس کے ماموؤں کی زمین مختلف جگہ پر ہے کسی کا ٹھیکہ 48000ہزار، کسی کا 50000ہزار اور کسی کا 55000ہزار ہے ،اور اس لڑکے کی زمین سب میں مشترک ہے متعین نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ٹھیکہ لینا درست ہے یاوہ لڑکا اپنی زمین لے کر پھر کسی کو ٹھیکہ پر دے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت میں فریقین یعنی بچہ اور اس کے ماموں زمین کے ٹھیکہ کی جس متعینہ رقم پر متفق ہو جا ئیں تو معاملہ درست ہو جائے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(4/448،رشیدیۃ)
“وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.”
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(4 /25، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(9 /100، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /386،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(11 /342،دار احیاءالتراث)
وکذافی تنویر الابصاروشرحہ مع رد المحتار:(9 /80،79 ،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(8 / 36،رشیدیة)
وکذا فی التجرید :(7/3655،محمودیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقیۃ:(1/277،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی المبسوط:(16/32ِدار المعرفۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1440
15/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :107

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔