سوال

ایک آدمی نے چار رکعت نفل کی نیت باندھی، اب دوران نماز کیا وہ ان رکعات کو فرض کی نیت سے پڑھ سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح فرض کی نیت کرنا معتبر نہیں، یہ نفل ہوں گے۔

لما فی الدر المختار مع الشامیہ: ( 2/156 ،دار العرفہ )
ولا تبطل بنية القطع ما لم يكبر بنية مغايرة[وفی الشامیہ](قوله ولا تبطل بنية القطع) وكذا بنية الانتقال إلى غيرها ط . (قوله ما لم يكبر بنية مغايرة) بأن يكبر ناويا النفل بعد شروع الفرض وعكسه، أو الفائتة بعد الوقتية وعكسه، أو الاقتداء بعد الانفراد وعكسه
وفی البحر الرائق: (1 /491 ،رشیدیہ )
” لأن النية المعتبرة إنما يشترط قرانها بالجزء الأول ومثله إذا شرع بنية التطوع فأتمها على ظن المكتوبة فهي تطوع. “
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /333 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /25 ،دار احیاء التراث )
وکذافی غنیہ المستملی : (249 ،قدیمی )
وکذا فی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی التاترخانیہ: (2 /45 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: (1 /86 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: (1 /275 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:117

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔