سوال

ہمارے علاقے میں زمین ٹھیکہ پر دی جاتی ہے اور فی ایکڑ تقریبا 50،000 ہزار سے60،000ہزار تک ٹھیکہ ایک سال کا طے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فصل پر ہونے والے تمام اخراجات مثلا ہل، کھاد ،سپرے اور پانی سب فصل کاشت کرنے والا کرتا ہے، مذکورہ اخراجات آج کل بہت زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب اس فصل کا عشر زمین کا مالک ادا کرے یا ٹھیکہ پر لینے والا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹھیکے پر دی گئی زمین کا عشر ٹھیکے دار ادا کرے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/187 ،رشیدیہ )
” ولو آجر أرضا عشرية كان العشر على الآجر عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وعندهما على المستأجر كذا في الخلاصة . “
وفی کتاب المبسوط: (3 /5 ،دار المعرفہ )
(قال): رجل استأجر أرضا من أرض العشر وزرعها قال عشر ما خرج منها على رب الأرض بالغا ما بلغ سواء كان أقل من الأجر، أو أكثر في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى العشر في الخارج على المستأجر.
وفی الشامیہ: (3 / 326،325، دار المعرفہ)
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل۔۔۔فلا ینبغی العدول عن الافتاء بقولھما فی ذلک.
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 3/281 ،فاروقیہ-کوئٹہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/1901 ،رشیدیہ )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ : ( 1/25 ،قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق : (2 /413 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: (2 /256 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/366 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-07-1440، 2019-03-31
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:119

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔