سوال

سورت ’’النصر ‘‘ میں ’’افواجا ‘‘ پر وقف کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مقام پر وقف کرنا بہتر ہے۔اور نہ کرنا بھی جائز ہے۔کیونکہ اس مقام پر آیت کے نشان پر جو “(لا)” لکھا ہوا ہے ،اس کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ “معارف القرآن” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:”لا : یہ لَاتَقِفْ کا مخفف ہے اس کا مطلب یہ ہے یہاں نہ ٹھہرو لیکن اس کا منشاء یہ نہیں کہ یہاں وقف کرنا ناجائز ہے، بلکہ اس میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں وقف کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس کے بعد والے لفظ سے ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔

لما فی البرھان فی علوم القرآن: ( 1/505 ، دار المعرفہ)
فان النبی ﷺ کان یقف عند کل آیۃ فیقول:(الحمد للہ رب العالمین) ویقف [ثم یقول] (الرحمن الرحیم) وھکذا ۔۔۔قال:وھذا ھو الافضل؛ اعنی الوقف علی رؤوس الآی.
وکذافی سنن ابی داؤد: (2 / 200،199، رحمانیہ)
وکذا فی سنن الترمذی: ( 2/ 586، رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:157

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔