الجواب حامداً ومصلیاً
بغیر عذر حمل ضائع کروانا جائز نہیں۔ اگر کو ئی حقیقی عذر ہو تو ماہر اور دین دار ڈاکٹر کے مشورہ سے چار ماہ سے قبل ضائع کروانے کی گنجائش ہے، چار ماہ کے بعد ضائع نہیں کرواسکتے۔
لما فی الفتاوی التاترخانیہ: ( 18/ 202،فارقیہ )
فنقول اختلف اصحاب رسول اللہﷺ فی العزل۔۔۔الا ان علمائنا قالوا فی المراۃ المنکوحۃ: یشترط رضاھا بالعزل۔۔۔ وفی فتاوی سمر قند: انہ اذا عزل خوفا من الولد السوء لفساد ھذا الزمان فھو جائز من غیر رضی المراۃ(وبعد صفحۃ)وفی الذخیرۃ: و مدۃ استبانۃ الخلق ونفخ الروح مقدرۃ بمائۃ وعشرین یوما، وفی الیتیمۃ: سالت علی بن احمد عن اسقاط الولد قبل ان یصور،فقال: اما الحرۃ فلا یجوز قولا واحدا، وامافی الامۃ فقد اختلفوا فیہ، والصحیح ھوالمنع
وفی روح المعانی : ( 15/66 ،دار احیاء التراث )
{وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ} وظاهر اللفظ النهي عن جميع أنواع قتل الأولاد ذكورا كانوا أو إناثا مخافة الفقر والفاقة
وکذا فی صحیح البخاری: (2 /265و292،291 ،رحمانیہ )
وکذافی الشامیہ: ( 4/335 ،دار المعرفہ )
وکذا فی فتح الملہم: ( 6/ 452 ،دارالعلوم کراچی )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: ( 3/410و446 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (5 /357،356 ،رشیدیہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (19 /121،120 ،علوم اسلامیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:164