سوال

آخری رکعت کے دو سجدے کرتے ہوئے ایک صاحب ایک سجدہ کرنے کے بعد بیٹھ گئے، دوسرا سجدہ نہیں کیا اور التحیات شروع کردی،آدھی یا آدھی سے زیادہ التحیات پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ دوسرا سجدہ نہیں کیا، تو اب اس نے التحیات ترک کر کے دوسرا سجدہ کرلیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا جبکہ دو سجدوں کے درمیان آپﷺ سے دعائیہ کلمات پڑھنا منقول ہیں۔ براہ مہربانی وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ شخص سجدہ سہو کرے گا ۔ کیونکہ دو سجدوں کے درمیان ذکر اگر ارادۃ ًہو تو اس کی اگرچہ اجازت ہے مگر نسیان اور بھول سے اگر ہو تو اس پر سجدہ سہو آتا ہے۔

لما فی الشامیہ : (2 /202 ،دار المعرفہ )
لو أطال قيام الركوع أو الرفع بين السجدتين أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو۔۔۔ من شك في صلاته فأطال تفكره۔۔۔إن في جلوسه بين السجدتين فعليه السهو؛لأن له أن يطيل اللبث في جميع ما وصفنا إلا فيما بين السجدتين۔۔۔.
وفیہ ایضا: (2/260 ، دار المعرفہ)
وقدمنا في الواجبات عن ط أنه لو أطال هذه الجلسة أو قومة الركوع أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو.
وکذافی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /262 ، ایچ-ایم-سعید)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : (1 /211 ،رشیدیہ )
وکذافی غنیۃالمستملی : ( 460 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 3/44،43 ،ادارۃ القرآن )
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 268 ،قدیمی )
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /313 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (2 /397 ،فاروقیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔