سوال

طلاق نامہ بنام مریم عاشق بنت محمد عاشق میں مسمی محمد زاہد ولد لیاقت علی زاہد بقائمی ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ کے اپنی بیوی کے مطالبہ ، ٹیلی فون اور message پر بار بار اصرار کرنے، خاندان کے تمام افراد کے سامنے طلاق کامطالبہ کرنے اور اپنی بیوی کے والدین اور بھائی کی طرف سے ہمارے گھر آکر اصرار کرنے کے بعد اپنی بیوی مریم عاشق بنت محمد عاشق کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں یہاں واضح کر دوں کہ نکاح کے وقت معجّل حق مہر اداکردیا گیاتھا اور غیر معجّل حق مہر 50000 روپےنصف جن کا 25000 روپے بنتے ہیں معاف کر دیا جاوے تاکہ طلاق مؤثر ہو سکے۔ یہ سب کچھ میں اپنی منکوحہ کی طرف سے مسلسل ذہنی دباؤ اور مطالبے پر کر رہا ہوں جس میں منگنی 3سال کاعرصہ شامل ہے۔ جس کے بعد 13دسمبر2014 کو باقاعدہ ہمارا نکاح ہوا، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی اور عین بارات والے دن 7دسمبر 2018کو شادی سے انکار کر دیا اور بارات اور ولیمہ کے لیے کی گئی تما مbookingsبھی منسوخ کروانا پڑیں اور تمام مہمانوں کو فون کر کے شادی منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی جس سے گھر اور خاندان کے افراد کو سخت صدمہ ،ذہنی کوفت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ لہذا ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ فیصلہ کر رہا ہوں ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اسلام کی رُو سے اور شریعت کے مطابق میرے اس فیصلے کو تحریری شکل دی جاوے تاکہ کسی قسم کا شرعی عذر نہ رہے ۔میں فون پر یا messageیا نوٹس کے ذریعے طلاق دینےکا کو ئی مناسب طریقہ کروں ۔مناسب رہنمائی فرما کر ہدایات جاری کریں تاکہ بندہ وہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے سکے ۔ صحیح ہدایت نامہ جاری کرکے مجھے شکریہ کاموقع دیں میں آپ کا مشکور ہوں گا۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں جب مسمی محمد زاہد نے نصف حق مہر مبلغ پچیس ہزار 25000کے عوض اپنی منکوحہ کو میسج پر طلاق لکھ کر بھیجی تو طلاق بائنہ واقع ہو گئی ہے۔لہذا اب دونوں کے درمیان کسی قسم کا ازدواجی تعلق باقی نہیں رہا۔

لما فی بدائع الصنائع:(3/239،رشیدیہ)
“وأما الطلاق على مال فهو في أحكامه كالخلع؛ لأن كل واحد طلاق بعوض فيعتبر في أحدهما ما يعتبر في الآخر”
وفی فتح القدیر:(4/211و213، رشیدیہ)
وفي الخلاصة: امرأة اختلعت من زوجها على مهرها ونفقة عدتها وعلى أن تمسك ولدها منه ثلاث سنين أو عشرا بنفقته صح الخلع ويجب ذلك، ۔۔۔۔۔والاصح ان الخلع علی مھرھا کالخلع علی مال آخر
وکذافی الفتاوی الھندیة:( 1/378، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (4/528، فاروقیہ)
وکذ افی البحر الرائق :(4/120، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلة:(9/6904،، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(4/442،دار المعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(5/58و79،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (2/200و229، الطارق)
وکذا فی الموسوعةالفقہیة:(29/24،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/4/1440
18/12/2018
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:61

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔