سوال

عیسائی خا تون مسلمان ہونا چاہتی ہے، اس کا ایک عیسائی سے نکاح ہوچکا ہے ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اس خاتون کے مسلمان ہونے سے ہی اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ،یا کچھ اور حکم ہے ؟ اور مسلمان ہونے کے بعد یہ عورت نکاح کرنے چاہے تو عدت گزارنا ضروری ہے یا نہیں۔

جواب

الجوب باسم ملھم الصواب

قاضی یا علماء کرام کی مجلس اس کے شوہر پر اسلام پیش کرے ،اگر وہ اسلام قبول کر لے تو نکاح برقرار رہے گا ،ورنہ ان کے درمیان تفریق کر دی جائے اور یہ تفریق طلاق کے حکم میں ہو گی ،اور یہ عو رت بغیر عد ت کے نکاح کر سکتی ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(3/188،89،سعید)
(واذااسلم احدالزوجین المجوسین او امراۃ الکتابی عرض الاسلام علی الآخر فان اسلم )فبھا(والا)بان ابی او سکت(فرق بینھما، ولو کان )الزوج(صبیا ممیزا)اتفاقا علی الاصح.
وفی المحیط البرھانی:(4/200، بیروت۔لبنان)
اذا اسلم احدالزوجین فی دارالاسلام،فان کان الذی اسلم ھی المراۃ یعرض الاسلام علی الزوج،فان اسلم بقیا علی النکاح، والا فرق بینھما
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/338، رشیدیۃ) وکذا فی البحر الرائق :(3/368، رشیدیۃ)
وکذا فی المدونۃ الکبری:(2/212، دارالکتب) وکذا فی الہدایۃ:(2/325، رشیدیۃ)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/83،الطارق)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019/2/20
جلدنمبر :18 فتوی نمبر :9

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔