سوال

دوران طواف حطیم میں دو رکعت پڑھ لئے اور پھر طواف پورا کیا،تو طواف کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

طواف تو پورا ہو جائے گا،لیکن یہ عمل مکروہ ہے۔

لما فی ردالمحتار:(2/ 497 ، سعید)
ولو خرج منہااومن السعی الی جنازۃ او مکتوبۃ او تجدید الوضوء ثم عاد بنی…. [تنبیہ]اذا خرج لغیر حاجۃ کرہ ولا یبطل،فقد قال فی اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مکروھاتہ تفریقہ ای الفصل بین اشواطہ تفریقا کثیرا۔
وکذا فی المبسوط:(4/48،دارالمعرفة )
وکذا فی الولوالجیة :(1/293 ، الحرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 / 2213، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/ 498 ،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة :(29 / 132، علوم اسلامیة)
وکذا فی اعلاءالسنن:(1 / 85،87، ادارۃ القرآن)
وکذا فی ارشاد الساری:(176، فاروقیة)
وکذا فی غنیة الناسک:(128، ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :13

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔