سوال

میت کے زیر ناف بال کاٹنا اورسر کے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

میت کے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنایہ مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/104،رشیدیہ)

(ولا یسرح شعرہ)ای یکرہ تحریما(ولایقص ظفرہ)الا المکسور(ولاشعرہ) ولا یختن،وفی رد المحتار:ان التزیین بعد موتھا والامتشاط وقطع الشعر لا یجوز

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1494،رشیدیہ)

قال الحنفیۃ والمالکیۃ:لا یسرح ولایحلق شعرہ ولا یقص ظفرہ الاالمکسور ولا شعرہ من راسہ ولحیتہ ولا یختن،اذ لا حاجۃ الیہ،لانہ للزینۃ،وقداستغنی عنھا فھذا مکروہ،والکراھۃ عند الحنفیۃ تحریميۃ.

وکذا فی بدائع الصنائع:(2/26،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/158،رشیدیہ)
وکزا فی الھدایة:(1/161،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/237،امدادیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:(1/266،المنار)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/49،داراحیاء)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/8،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/59،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :89

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔