سوال

ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے ،یہ کہے کہ تو میری طرف سے فارغ ہے اور دل میں نیت ایک طلاق کی ہو تو اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہو گی؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/427،429،بیروت)
فالاصل فی جمیع الفاظ الکنایات ان لا یقع الطلاق بھا الا بالنیۃ ،و بعد صفحۃ :وان نوی فی الخلیۃ والبریۃ والبتۃ والبائن والحرام، ثلاثا او واحدۃ بائنۃ فھو علی ما نوی.
و فی المبسوط للسرخسی:(6/73،دارالمعرفة)
ولو قال انت منی بائن او بتۃ او خلیۃ او بریۃ فان لم ینو الطلاق لا یقع الطلاق۔۔۔۔ وان نوی الطلاق فھو کما نوی
وکذا فی الھداية:(2/352،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/521،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(3/297،سعید)
وکذ افی التاتارخانية:(4/459،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6900،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:2/35،36،المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :154

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔