الجواب باسم ملھم الصواب
صورت مذكوره ميں شوہر کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی “سے دو طلاق رجعی واقع ہو گئیں اور بعد میں اس کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں کہا جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ” سے ہماری رائے کے مطابق تیسری طلاق نہیں ہوئی ، بلکہ وه پہلے الفاظ کو دہرا رہا ہے۔لہذا عدت کے دوران شوہر رجوع کرسکتا ہے اور عدت کے بعد نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔
لمافی بدائع الصنائع:( 3/158، رشیدیہ)
اماالسکران : اذا طلق امراتہ، فان کان سکرہ بسبب محظور بان شرب الخمر او النبیذ طوعاحتی سکروزال عقلہ فطلاقہ واقع عند عامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم.
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)
اما السکران بطریق محرم، وھو الغالب بان شرب الخمر عالما بہ ، مختارا لشربہ او تناول المخدر من غیر حاجۃ او ضرورۃ عند الجمھور غیر الحنابلۃ، فیقع طلاقہ فی الراجح فی المذاھب الاربعۃ، عقوبۃ وزجرا عن ارتکاب المعصیۃ.
وکذا فی البحرا لرائق:(3/431،32،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(4/394،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/391،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)
وکذا فی الھداية:(2/337،38،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/353،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(4/432،رشیدیہ)
وکذافی البناية:(5/26،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :167