سوال

شطرنج كھیلنا کیساہے؟اوراس نیت سے کھیلنا کیسا ہےکہ اس سے دماغ تیز ہوتاہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرجوےکےساتھ ہوتو حرام ہےورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الہندیہ: ( 1/356،رشیدیہ)
ویکرہ اللعب بالشطرنج والنردوثلاثۃعشرواربعۃعشروکل لھوماسوی الشطرنج حرام بالاجماع واماالشطرنج فااللعب بہ حرام عندنا
وفی الفقہ الحنفی: ( 5/424،الطارق)
وکذاالشطرنج،وانماکرہ لان من اشتغل بہ ذھب عناوہ دنیوی وجاءہ العناوہ الاخروي فھو حرام وکبیرۃ عندنا۔۔۔۔وفی الحد یث قال علیہ الصلاۃوالسلام لھو المومن باطل الافی ثلاث،تادیبہ لفرسہ،ومناضلتہ عن قوسہ،وملاعبتہ مع اھلہ.
وکذافی الہداية: ( 4/473،رشيديه)
وکذا فی اعلاءالسنن: (17/458،ادارة القرآن)
وکذافی الفقه الاسلامی: (4/2663، رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/222،المنار )
وکذافی الموسوعة الفقهية: ( 35/269،علوم الاسلاميه)
وکذا فی الدرالمختارمع ردالمحتار( 9/650،651،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :10

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔