الجواب حامداً ومصلیاً
مذکورہ قسم کے معاملہ کو شریعت کی اصطلاح میں ” بیع سلم “ کہا جاتا ہے ۔ اور اس میں چند شرائط کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر معاملہ کرتے وقت ان شرائط کا لحاظ کیا جائے تو معاملہ درست ہے ورنہ نہیں۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔
جو چیز فروخت کی جا رہی ہے مثلا بیج یا دوائی وغیرہ، اس کی قیمت معلوم ہو مثلا فی تھیلا 9100 کا، اس چیز کی جنس معلوم ہو، مثلا کون سا بیج یا دوائی وغیرہ، کوالٹی معلوم ہو اعلی درجہ کی ہے یا اوسط درجہ کی، مقدار اور وزن معلوم ہو مثلا اتنے تھیلے اور فی تھیلا اتنے کلو کا، سپردگی کی تاریخ اور جگہ معلوم / متعین ہو اور معاملہ طے ہو جانے کے بعد اسی مجلس میں مکمل قیمت کی فی الفور ادائیگی ہو۔
لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/3603، رشیدیہ )
تعریف السلم: السلم او السلف: بیع آجل بعاجل، أو بیع شیئ موصوف فی الذمۃ ای انہ یتقدم فیہ راس المال و یتأخر المثمن الآجل، و بعبارۃ اخری:ھو أن یسلم عوضا حاضرا فی عوض موصوف فی الذمۃ الی أجل
وفی المحیط البرھانی: ( 10/277، دار إحیاء تراث )
السلم لہ شرائط کثیرۃ: أحدھا بیان فنس المسلم فیہ، کقولنا: تمر جید، أو ردئ، و الثانی: بیان نوعہ … الثالث: بیان صفتہ… و الرابع: بیان قدرہ فی المکیلات بالکیل، و الموزونات بالوزن… لأن بدون بیان ھذہ الاشیاء یقع بینھما منازعۃ مانعۃ من التسلیم و التسلم.
وکذافی فقہ البیوع: ( 2/1160، 1158،معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 5/3607، رشیدیہ )
واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :66