سوال

علماء سے سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ اللہ پاک کے نافرمانوں اور باغیوں سے محبت کرنا جائز نہیں۔ والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے کی فضیلت بھی حدیث شریف میں آئی ہے۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ جس کے والدین اللہ پاک کے نافرمان اور باغی ہوں، تو ایسے والدین کو بھی محبت کی نظر سے دیکھا جائے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی بات تو یہ ہے کہ باغیوں اور نافرمانوں کی ذات سے نہیں بلکہ ان کے افعال سے شریعت نے نفرت کا حکم دیا ہے، ان کی ذات تو قابلِ رحم اور قابلِ شفقت ہے کہ ان کو جہنم سے بچایا جائے۔ اور والدین سے متعلق تو خاص طور پر قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا“ کہ اگر کافر و مشرک والدین، شرک کی طرف بلائیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود، ان سے دنیا میں حسنِ سلوک ضروری ہے۔ اور حدیثِ مبارکہ ” مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللّهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً “ میں ” وَلَدٍ بَارٍّ “ کے الفاظ ہیں، یعنی جو اپنےوالدین کا فرمانبردار ہو، تو اس کے لیے اپنے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے پر مقبول حج کا اجر ہے، لہذا والدین جیسے بھی ہوں، اولاد کے لیے ان سے حسنِ سلوک کا معاملہ کرنے، محبت و شفقت سے پیش آنے اور جائز کاموں میں ان کی فرمانبرداری کرنے کا حکم ہے، اور احادیث مبارکہ میں فرمانبردار اولاد کے لیے بےشمار فضائل وارد ہوئے ہیں، اور اولاد کو چاہیے کہ والدین کے لیے دعا کرتے رہیں، اور ان کے مقام اور مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔

لما فی القرآن الکریم: (السراء،23 )
“وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا.”
وفیہ أیضاً: ( اللقمان ، 15،14 )
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا
وکذافی تفسیر القرطبی: ( 14/65، دار احیاء تراث )
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 10/238،239، دار احیاء تراث )
وکذافی تفسیر البغوی: ( 3/491، دار المعرفہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 2/492، دار احیاء تراث )
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 3/290، قدیمی )
وکذا فی أحکام القرآن للعثمانی: ( 3/266، ادارة القرآن )
وکذا فی الصحیح للبخاری: ( 2/409،رحمانیہ )
وکذا فی شعب الایمان: ( 6/186، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی المرقا ة: ( 8/677، المکتبة التجاریة )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: ( 8/65، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :195

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔