الجواب حامداً ومصلیاً
جی ہاں !یہ بات حدیث مبارک سے ثابت ہےچنانچہ ایک حدیث پاک میں ہےکہ مسجد میں زمین کاسب سے بہتر حصہ وہ ہے جو امام کے پیچھے ہو ،اور جب رحمت نازل ہوتی ہے تو وہ امام سے شروع ہوتی ہےپھر اس پر جو اس کے پیچھے ہو ،پھر دائیں طرف والوں پر پھر بائیں طرف والوں پر پھروہ تمام مسجد والوں کو گھیر لیتی ہے۔
لما فی کنزالعمال: ( 7/250 ،رحمانیہ )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وفی مسند الفردوس: (2 /182 ،دارالکتب )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وکذافی جامع الاحادیث : (12 /366 ،الشا ملہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1 /307 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (2 /372 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 1/619 ،رشیدیہ )
وکذا فی دررالاحکام شرح غررالاحکام : (1 /90 ،الشاملہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440ھ2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :17