الجواب حامداً ومصلیاً
شخص مذکورکے الفاظ میں اپنے ذمہ حج کا لزوم مفہوم نہیں ہوتابلکہ وعدہ اور ارادہ کا اظہار ہے اس لیے یہ نذر منعقدنہ ہوگی ۔
لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/345 ،الطارق )
“وھو فی الشرع التزام المکلف شیئا لم یکن علیہ . “
وفی الموسوعةالفقہیة: (40 /136 ،علوم اسلامیہ )
” والنذر اصطلاحا:الزام مکلف مختار نفسہ للہ تعالی بالفعل شیئا غیر لازم علیہ باصل الشرع . “
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :15