سوال

ایک آدمی کی دس ماہ کی بچی ہےمگر حمل دوسرا بھی ہے تقریبا ایک ماہ سے زائد کا اس وجہ عورت کی صحت بھی اور بچی کی صحت بھی خراب رہتی ہے تو کیا اس حالت میں وہ حمل گراسکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں ماہر اور دین دار ڈاکٹرکے مشورے سے حمل گرایا جاسکتاہے، ورنہ نہیں۔

لما فی الشامیة: (3 /176 ،سعید )
وقالوا یباح أسقاط الولد قبل أربعۃ اشھر ولو بلا أذن الزوج (وعن أمتہ بغیر أذنھا)بلا کراھۃ فأن ظھر بھا حبل حل نفیہ ان لم یعد قبل بول
وفی: الھندیة (1 /335 ،رشیدیہ )
“وکذالک المرأۃ یسعھا أن تعالج لأسقاط الحبل ما لم یستبن شیئی من خلقہ وذالک ما لم یتم لہ مائۃ وعشرون یوما
وکذافی الشامیة : (3 /176 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 6601، رشیدیہ)
وکذا فی البنایة: (4 / 759 ،رشیدیہ )
وکذافی النھر الفائق: (2 /276 ،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (2 /76 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/ 349 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 2/ 166 ،امدادیہ )
وکذا فی مجمع الانھر : (1 /538 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :73

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔