الجواب حامداً ومصلیاً
حافظات کو قرآن پاک یاد رکھنے کے لیےتلاوت کا مستقل معمول بنانا چاہیے ،اگر کسی کو اس طرح یاد نہ ہو تو گھر کی خواتین کو تراویح پڑھانے کی گنجائش ہے،لیکن اس کے لیے محلہ کی خواتین کو دعوت و ترغیب نہ دی جائےکہ یہ متعدد خرابیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔
لما فی کتاب الآثار: (1/258،دارالسلام)
“قال محمد :اخبرناابوحنیفۃ :حدثنا حماد…عن عائشۃ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنھا انھا توم النساء فی شھر رمضان فتقوم وسطا .”
و فی فتح القدیر: (1/365 ،رشیدیہ )
“وبتقدیر التسلیم فانما یفید نسخ السنیۃ وھو لا یستلزم ثبوت کراھۃ التحریم فی النفل بل التنزیہ ومر جعھا خلاف الاولی .”
وکذافی الھدایة : (1/25،المیزان)
وکذافی الھندیة: (1/85 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: (1/614 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: (1/565 ،سعید)
وکذافی النھر الفائق: (1/244 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة(2/257 ،فاروقیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1/304 ،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1/265 ،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019 -05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :82