سوال

روایات کے اندر صبح وشام کی دعاؤں کا ذکر ملتاہے ۔تو کیا اس میں وقت کی کو ئی تحدیدہے؟مثلا صبح کی دعاؤں کا وقت طلوع شمس یا طلوع آفتاب سے شروع ہو کر کس وقت تک ہے ؟ اور اسی طرح شام کی دعاؤں کا ابتدائی اور انتہا ئی وقت کیا ہے؟ اور اسی طرح بعض اعمال دن ،رات کے ہیں ان کے اوقات کار کیا ہیں؟ مثلا ایک شخص تہجد کے وقت دن کے اعمال (تسبیحات اور سورۃ یٰس وغیرہ کی تلاوت )کر لیتا ہے حا لانکہ ابھی تک طلوع فجر بھی نہیں ہوا ،اس کا کیا حکم ہے ؟ مندرجہ با لاسولات کا جواب دےکر عند اللہ ما جور ہو ں اور تا کہ ہم ان مسنون اعمال کو مسنون طریقے پر کر سکیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صبح کی دعاؤں کا افضل وقت آدھی رات کے بعد سے طلوع شمس تک ہے اگر چہ گنجائش زوال تک بھی ہے ،اورشام کی دعاؤں کا افضل وقت زوال کے بعد سے غروب تک ہے ،اگرچہ گنجائش آدھی رات تک بھی ہے ،دن کےاذکار کا وقت سورج کے طلوع سے غروب تک ہے اور رات کی دعاؤں کا وقت سورج کے غروب سے طلوع تک ہے ۔

لمافی الشامية:(6/354،دار المعرفة)
تدخل أوراد الصباح من نصف الليل الأخير والمساء من الزوال، هذا فيما عبر فيه بهما. وأما إذا عبر باليوم والليلة فيعتبران تحديدا من أولهما
وفی لسان العرب : ( 13/110 ،داراحیاء التراث العربی )
والمساء:بعد الظهر الي صلاة المغرب وقال بعضهم الي نصف الليل
وفی فقہ الاد عية والاذکار : (3/ 11 ،الکویت شاملہ)
ويقول تعالى: {فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ} 4، والآيات في هذا المعنى كثيرة.ومَحلُّ هذه الأوراد هو الصباحُ الباكرُ من بعد صلاة الصُّبحِ إلى قبل طلوع الشمس، والمساء ويقال العشي والآصال من بعد صلاة العصر إلى قبل الغروب، على أنَّ الأمر في ذلك واسعٌ إن شاء الله فيما لو نسي العبدُ ذلك في وقته أو عَرضَ له عارضٌ فلا بأس أن يأتي بأذكار الصباح بعد طلوع الشمس، وأذكار المساء بعد غروبها
وکذا فی الاذکار: ( 147 ، دار البشائر الاسلامية)
وکذا فی لسان العرب : (12 /378 ، داراحیاء التراث العربی)
وکذا فی المعجم الوسیط : (1067 ،دار الد عوۃ )
وکذافی لسان العرب : ( 15/ 466، ، داراحیاء التراث العربی)
وکذافی لسان العرب : (7/ 271 ، داراحیاء التراث العربی )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9-5-2019،1440-9-3
جلد نمبر :19فتوی نمبر:58

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔