الجواب حامداً ومصلیاً
مرحوم عبدالصمد نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان، دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا۔ خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
مرحوم عبدالصمد کے کل ترکہ کے 8 برابر حصے کر دیےجائیں،ان میں سے1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بیوہ کو، 4 حصے (%50) مرحوم کی بیٹی کو، 1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بہن کو اور 2 حصے (%25) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو دے دیے جائیں۔
سوال میں مذکور مرحوم کے 6 مرلہ مکان میں سے مرحوم کی بیوہ کے 4 مرلے حق مہر نکالنے کے بعد باقی ماندہ 2 مرلہ (18 سرسائی) مکان میں سے 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی) مرحوم کی بیوہ کو، 1 مرلہ ( 9 سرسائی ) مرحوم کی بیٹی کو، 0.25 مرلہ (2.25سرسائی) مرحوم کی بہن کو اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی ) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو ملیں گے۔
اور مرحوم عبداللطیف کو اپنے بھائی عبدالصمد مرحوم کی طرف سے ملنے والے حصے ( 0.5 مرلہ ) اور اس کے اپنے ذاتی ترکے (مکان وغیرہ ) کو جمع کر کے کل ترکہ مرحوم کی بہن کو دے دیا جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں بھانجا، عبدالصمد مرحوم کے مکان میں سے شریعت کی رو سے اپنی والدہ کے حصے 0.25 مرلے (2.25 سرسائی ) کا اور اس کی والدہ کو اپنے مرحوم بھائی عبداللطیف کی طرف سے ملنے والے حصے 0.50 مرلے ( 4.5 سرسائی ) کا اپنی والدہ کے حکم پر مطالبہ کر سکتا ہے، جو کہ دونوں ملا کر 0.75 مرلہ ( 6.75 سرسائی ) بنتا ہے۔ جبکہ مرحوم عبدالصمد کی بیوہ اور بیٹی کو عبداللطیف مرحوم کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا
عبدالصمد مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ۔
نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
2 بیٹی 4 ٪50 1 مرلہ ( 9 سرسائی )
3 بہن 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
4 بھائی 2 ٪25 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 4 4 ٪100 2 مرلہ ( 18 سرسائی )
عبداللطیف مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ
نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بہن 1 ٪100 مکان اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 1 1 ٪100 = = = = =
لما فی القرآن المجید: (النساء ،11 )
“یوصیکم اللہ فی أولادکم ……و ان کانت واحدۃ فلھا النصف.( الآیۃ)”
وفیہ أیضاً: (النساء، 12 )
“فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ. ( الآیۃ)”
وفی السراجی فی المیراث: ( 10، مکتبہ شرکت علمیہ )
“أما للأخوات لأب وأم فاحوال خمس النصف للواحدۃ و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ و مع الأخ لأب و أم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن بہ عصبۃ لاستواءھم فی القرابۃ الی المیت.”
وفیہ أیضاً: ( 27 ، مکتبہ شرکت علمیہ )
ما فضل عن فرض ذوی الفروض و لا مستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم ثم مسائل الباب علی اقسام اربعۃ احدھا ان یکون فی المسألۃ جنس واحد ممن یرد علیہ عند عدم من لا یرد علیہ فاجعل المسئلۃ من رؤسھم
وکذافی اعلاء السنن: ( 18/394، ادارة القرآن )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447، رشیدیہ )
وکذافی التنویر و الدر مع الشامیة: ( 10/532، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 20/224،216، فاروقیہ )
واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:109