سوال

ایک آدمی عمر ہ پر جا تا ہے اور وہ اپنی ماں اور بھائی كوثواب پہنچانا چاہتا ہے،تو کیا الگ الگ عمرہ کرے یا ايك ہی میں نیت کرے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں طریقے درست ہے ۔

لمافی تنویر الابصار :(2/607،ایچ ایم سعید )
ومن حج عن) كل من (آمريه وقع عنه وضمن مالهما)… فإن عين أحدهما قبل الطواف والوقوف جاز،لأنه متبرع بالثواب فله جعله لأحدهما أو لهما،بخلاف ما لو أهل بحج عن أبويه أو غيرهما من الأجانب حال كونه (متبرعا فعين بعد ذلك جاز)
وفی البحرالرائق : (3 /111 ،رشیدیہ )
ومن حج عن آمريه ضمن النفقة)….. وقيد بالأمر بهما؛ لأنه لو أحرم عنهما بغير أمرهما فله أن يجعله عن أحدهما؛ لأنه متبرع بجعل ثواب عمله لأحدهماأو لهما فبقي على خياره بعد وقوعه سببا لثوابه
وکذافی غنية الناسك : (328 ،ادارۃالقر آن والعلوم )
وکذا فی المحیط البر ھانی : (3 /576 ،دار احیا ء التراث العربی )
وکذافی الفتاوی التا تا ر خانية: (3 /651 ، فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق : (3 /105 ،رشید یہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:19

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔