سوال

کہ نماز ظہر سے پہلے والی چار سنتوں کا صحیح حدیث سےثبوت ہے یا نہیں؟؟ اگر ہے تو حوالہ درکار ہے۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز ظہر سے پہلے والی چارسنتیں احادیث صحیحہ اور عبارات فقہ سے ثابت ہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم :(1 /252 ،قدیمی )
عن عبد اللہ بن شقیق قال : سئالت عائشۃ عن صلوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظہر اربعا ثم یخرج فیصلی بالناس ۔۔۔الخ
وفی جامع التر مذی :(1 /208 ،رحمانیہ )
“عن علی قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الظہر اربعا وبعدھا رکعتین ۔۔۔۔۔۔۔ قال ابو عیسی: حدیث علی، حدیث حسن “
وکذا فی سنن ابی داؤد: ( 1 / 188 ، رحمانیہ )
وکذا فی سنن النسائی: ( 1 / 278 ، رحمانیہ
وکذا فی سنن ابن ماجہ: ( 188 ، رحمانیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 2 / 83 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 1 / 194 ، المنار )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 2 / 299 ،فاروقیہ کوئٹہ)
وکذا فی الدرالمختار: ( 2 / 545 ، دارالمعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2 /1057 ، رشیدیہ)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:102

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔