سوال

ایک شخص اپنے ملازم کو کہتا ہے، کہ یہ چیز ہزار روپے میں فروخت کرو، لیکن ملازم چرب لسانی کے استعمال سے اسے ہزار سے زیادہ میں فروخت کرتا ہے تو کیا یہ زائد رقم اس کے لیے حلال ہے ؟

جواب

الجوا ب باسم ملھم الصواب

یہ زائد رقم بھی مالک کی ہے اس لیے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ۔

لما فی الفتاوی التاتار خانیہ: (12 /377، فاروقیہ )
“ولو وکلہ بالبیع بالف ثم زاد المشتری فی الثمن خمسمائۃ فالزیادۃ للآمر”
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (45/46، علوم الاسلامیہ )
“اذا باع الوکیل باکثر من الثمن المحدد لہ وکانت الزیادۃ من جنس الثمن فان البیع یکون صحیحا عند الجمہور الفقہاء “
وکذافی مجمع الانھر : 3/324،مکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:4/ 328، الحرمین )
وکذافی البحر الرائق : (7/282،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریة:(3/ 592، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :15/ 101،احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة: (45/ 42، علوم الاسلامیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : 5/ 4019، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : (5/26، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16، 5، 1440/ 2019، 1، 23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:142

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔