سوال

امام رکوع میں ہو تو مقتدی کے لیے کتنا قیام ضروری ہے؟(2) اگر رکوع میں جاتے وقت تکبیر تحریمہ کہہ لے تو نماز کا کیا حکم ہے؟ (3)اگر چلتے ہوئے تکبیر کہی ،تکبیر کے بعد ایک قدم چلا ،پھر رکوع میں چلا گیا ،کیا یہ درست ہے؟

جواب

الجواب باسم ملهم الصواب

ايسی حالت ميں اتنا قیام کافی ہو گا کہ جس میں وہ تکبیر تحریمہ کہہ سکے۔(2)اگر تکبیر تحریمہ کہتے وقت قیام کے زیا دہ قریب تھا یعنی ہاتھ گھٹنوں تک نہیں پہنچے تھے تو نماز درست ہے ورنہ نہیں۔(3) درست نہیں ہے ۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/68،رشیدیہ)
“ولا یصیر شارعا بالتکبیر الا فی حالۃ القیام او فیما ھو اقرب الیہ من الرکوع۔۔۔۔ حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا فی الصلوۃ “
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/ 20 3،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/337، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعةالفقھیہ:(37/336، علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کتاب التجنیس:(1/432،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/118، احیاء تراث العربی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/509،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/195،حقانیہ)
وکذا فی الدر المختار:(1/628،سعید کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440، 2019، 4، 15
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:27

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔