الجواب باسم ملھم الصواب
اصولا تو مینڈک کا پیشاب نجس ہے لیکن چونکہ اس سے پچنا ممکن نہیں ہے، اس لیے ضرورت کے پیش نظر ان کے پیشاب کا معاف ہونا معلوم ہوتا ہے،لیکن اگر کسی جگہ پیشاب کے واضح نشانات ہوں تو اس کو دھو لیا جائے، ورنہ شک و شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
لما فی الدر المختار:(1/574،دارالمعرفہ)
وبول غیر ماکول ولومن صغیر لم یطعم )الا بول الخفاش وخرأہ فطاھر،وکذا بول الفارۃ لتعذر التحرز عنہ ،وعلیہ الفتوی کما فی التاتر خانیۃ وسیجئ آخر الکتاب ان خرأھا لا یفسد مالم یظھر اثرہ وفی الاشباہ :بول السنور فی غیر اوانی الماء عفو
وکذا فی المحیط البرھانی :(1/367،احیاء تراث العربی)
وبول الخفاش وخرأہ لیس بشئ ،لانہ لایستطاع الامتناع عنہ ،وکذا دم البق والبراغیث لیس بشئ وان کثر لانہ لیس بدم مسفوح
وکذا فی البنایہ:(1/747،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:(40/113،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/45،الطارق)
وکذا فی فتاوی النوازل:(29،حقانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019، 4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:148