الجواب حامداًومصلیاً
اگر معلوم ہو کہ اس عزیز کی طرف سے یہ دعوت و ہدیہ حلال آمدن سے ہے تو پھر قبول کرنا جائز ہے، لیکن اگر معلوم نہ ہو بلکہ مخلوط آمدن ہو تو پھر غلبہ کا اعتبار ہو گا، اگر حلال آمدن زیادہ ہو تو پھر قبول کرنا جائز ہے،لیکن اگر حرام آمدن زیادہ ہو تو پھر قبول کرنا جائز نہیں ۔
لمافی المحیط البرھانی :(8/73،ادارة القرآن)
رجل اھدی الی انسان و اضافہ، ان کان غالب مالہ من الحرام فلا ینبغی ان یقبل و یأکل من طعامہ ما لم یخبر ان ذلک المال حلال استقرضہ او ورثہ، وان کان غالب مالہ من حلال، فلابأس بان یقبل ما لم یتبین لہ ان ذلک من الحرام…. فیعتبر الغالب و یبنی علیہ الحکم
وفی الھندیة:(5/342،رشیدیہ)
اھدی الی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ہو الحرام ینبغی ان لا یقبل الھدیۃ ولا یأکل الطعام الا ان یخبرہ بانہ حلال ورثتی او استقرضتہ من رجل
وکذافی مجمع الانھر:(4/186،منار)
وکذافی فتاوی النوازل :(283،حقانیہ)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1021،معارف القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(18/175،فاورقیہ)
و کذافی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/400،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(20/334،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،5،1443/2021،12،22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:46