سوال

اذان کے کلمات کا جواب انھیں کلمات اذان کے دہرانے سے دیا جاتا ہے، لیکن “حیّ علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح” کے جواب میں ‘لاحول ولاقوۃ’ کہتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اذان میں ‘حی علی الصلوۃ و حی علی الفلاح’ کے علاوہ تمام کلمات میں توحید ورسالت کا ذکر ہے، اس لیے اس کے جواب میں ذکر کرنا اور موذن کی دعوت کی تصدیق انھیں الفاظ میں کرنا مناسب ہے، لیکن ‘حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح’ کا جواب انھیں الفاظ میں دینا یہ موذن اور دعوت دینے والے کی توہین اور اس کا مذاق اڑانا ہے، اور’ لا حول ولاقوۃ الاباللہ’ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو شیطان اس کو نماز سے بھٹکا دے یا یہ خود اس عبادت پر فخر محسوس کرنے لگے، بلکہ یہ سوچے کہ میں نماز کے لیے اللہ کی توفیق سے جا رہا ہوں میرا اس میں کچھ کمال نہیں۔

لمافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(203،قدیمی)
قال لا حول ولا قوۃ الا باللہ ای لا حول لنا عن معصیۃ ولا قوۃ لنا علی طاقۃ الا بفضلاللہ فی سماعہ الحیعلتین ھما حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح کما ورد لانہ لو قال مثلھما صار کالمستھزئ لان من حکی لفظ الآمر بشئ کان مستھزئاً بہ بخلاف الکلمات ۔
وفی البحر الرائق:(1/452،رشیدیہ)
اذا قال حی علی الصلوۃ قال حی علی الصلوۃ الی اخرہ، وقولھم انہ یشبہ الاستھزاء لا یتم اذ لامانع من صحۃ اعتبار المجیب بھما داعیا لنفسہ محرکا منھا السواکن مخاطبا لھا، وقد اطال رحمہ اللہ الکلام فیہ و بھذا ظہر ان ما فیہ غایۃ البیان من ان سامع الحیعلۃ لا یقول مثل ما یقول المؤذن لانہ یشبہ الاستھزاء وما یفعلہ بعض الجھلۃ فذاک لیس بشیئ ۔
وکذافی الشامیة:(2/82،دار المعرفہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(2/372،علوم اسلامیہ)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/89،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/255،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس و المزید:(1/391،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:185

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔