الجواب حامداًومصلیاً
خریدوفروخت کی مندرجہ بالا صورت سود، دھوکہ، اور مشروط معاہدہ ہونے کی بناء پر ناجائز ہے، لہذا بہر صورت اس سے بچا جائے۔
لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /86 ،طارق)
الغرر مایکون مجھول العاقبۃ لا یدری ا یکون ام لا …. فبیوع الغرر تنسحب علی بیع دخلہ الغرر بوجہ من الوجوہ وقد نھی النبی ﷺعن بیع الغرر
وفیہ ایضا:(4/233،طارق)
ہو بیع المال الربوی بجنسہ مع الزیادۃ فی احد العوضین، وسمی بھذا لوجود الفضل فی العقد وھو حرام وبعد صفحتین معتمد الفقہ جریان الربا فی الفلوس کالذھب و الفضۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(5/3700،رشیدیہ)
ربا الفضل الذی ہو بیع بانہ زیادۃ عین مال فی عقد بیع علی المعیار الشرعی (وہو الکیل و الوزن )عند اتحادالجنس…. فان الربا یتحقق بالزیادۃ المشروطۃ وغیر المشروطۃ فی البیع او فی القرض
وکذافی تکملة فتح الملھم :(1/322،دارالعلوم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلة :(5/3410،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(22/57،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/400،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443،2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:3