الجواب حامداًومصلیاً
اگرگاہک کو معلوم ہے کہ دکاندار نگینے بھی سونے کی قیمت میں دےرہا ہے اور وہ رضامند ہو جاتا ہے تو پھر جائز ہے، ورنہ نہیں، اس لئے کہ یہ دھوکہ ہے۔
لمافی الآثار:(2 /733 ،دارالسلام)
” عن ابراہیم قال اذا کان الخاتم فضۃ و فیہ فص فاشترہ بما شئت ان قلیلا وان شئت کثیرا.
وفی رد المحتار :(5/238،ایچ۔ایم۔سعید)
“لا بأس ببیع المغشوش اذا بین غشہ او کان ظاہرا یری.
وکذافی المبسوط:(14/25،دار المعرفہ)
وکذافی قضایا فقہیة معاصرة :(1/13،معارف القرآن)
وکذافی شرح المجلة الاحکام:(3/201،عربیہ)
وکذافی الہندیہ:(3/215،رشیدیہ)
وکذافی الہدایة :(3/113،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:6