سوال

ایک عالِم کے لیے ایسے رشتہ داروں کے ہاں شادی وغیرہ کی تقریب میں جانا کیسا ہے؟ جہاں یقین ہو کہ گانا بجانا ضرور ہو گا۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر امید ہو کہ اس کے جانے سے خرافات وغیرہ ختم یا کم ہو جائیں گی، تو ضرور جانا چاہیے، لیکن اگر یقین ہو کہ ختم یا کم نہ ہوں گی تو پھر نہیں جانا چاہیے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2621،رشیدیہ)
ان علم المدعو بوجود منکر کلعب وغناء وملاہ ونصب تماثیل وصور مجسمۃ علی الحیطان او الاستار او الوسائد قبل حضورہ فلا یحضر۔۔۔۔ فان قدر علی المنع ، منعھم لقولہ ﷺ:من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ افان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان ۔
وفی الھندیة:(5/343،رشیدیہ)
اما اذا علم قبک الحضور فلا یحضر لانہ لایلزمہ حق الدعوۃ بخلاف ما اذا ھجم علیہ لانہ قد لزمہ کذا فی السراج الوھاج وان علم المقتدی بہ بذلک قبل الدخول وھو محترم یعلم انہ لو دخل یترکون ذلک فعلیہ ان یدخل والا لم یدخل
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/339،طارق)
وکذافی الشامیة:(5/221،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(45/239،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/190،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/406،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/8/1443-2022/3/24
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:62

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔