سوال

مارے علاقے میں ایک ادارہ ہے، اخوت کے نام سے جو لوگوں کو قرض حسنہ دیتا ہےاور آسان اقساط میں واپس لیتا ہے،اس کی ترتیب یہ ہے کہ جو شخص بیس یا تیس ہزار قرض لیتا ہے شروع میں اس سے 300 روپے سروس چارجز کے نام پر لیتے ہیں جس سے وہ ادارے کے اخراجات اور عملہ کی تنخواہیں ادا کرتے ہیں اور پھر ہر قسط کے ساتھ ترغیب دیتے ہیں کہ آپ حسب توفیق عطیہ اس قرض حسنہ کے فنڈ میں جمع کروائیں اور یہ رقم بھی جمع کروانا لازمی ہوتا ہے ۔اس ادارے سے قرض لینا کیسا ہے؟ وہ تین سو سروس چارجز کے اور بعد میں جو عطیہ فند میں جمع کروایا جا تا ہے سود ہے یا نہیں؟ تنقیح:فون پر اخوت ادارے کے نمائندے نے درج ذیل باتیں بتائیں:(1)قرض لینے والے سے نادرہ فیس اور ایپلیکیشن فیس لی جاتی ہے۔(2)عطیہ کی شرط نہیں لگائی جاتی ،قرض لینے والے کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ عطیہ دےیا نہ دے۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

ہم نے اخوت ادارے سے برائے راست جو تفصیل معلوم کی وہ مندرجہ بالا ہے،اگر اس ادارے کی یہی ترتیب رہے جو سوال میں مذکور ہے تو اس سے قرض لینا جائز ہے، اور اگر ترتیب بدل جائے تو دوبارہ سوال کر لیا جائے۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/8/1443-2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:87

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔