مارے علاقے میں ایک ادارہ ہے، اخوت کے نام سے جو لوگوں کو قرض حسنہ دیتا ہےاور آسان اقساط میں واپس لیتا ہے،اس کی ترتیب یہ ہے کہ جو شخص بیس یا تیس ہزار قرض لیتا ہے شروع میں اس سے 300 روپے سروس چارجز کے نام پر لیتے ہیں جس سے وہ ادارے کے اخراجات اور عملہ کی تنخواہیں ادا کرتے ہیں اور پھر ہر قسط کے ساتھ ترغیب دیتے ہیں کہ آپ حسب توفیق عطیہ اس قرض حسنہ کے فنڈ میں جمع کروائیں اور یہ رقم بھی جمع کروانا لازمی ہوتا ہے ۔اس ادارے سے قرض لینا کیسا ہے؟ وہ تین سو سروس چارجز کے اور بعد میں جو عطیہ فند میں جمع کروایا جا تا ہے سود ہے یا نہیں؟ تنقیح:فون پر اخوت ادارے کے نمائندے نے درج ذیل باتیں بتائیں:(1)قرض لینے والے سے نادرہ فیس اور ایپلیکیشن فیس لی جاتی ہے۔(2)عطیہ کی شرط نہیں لگائی جاتی ،قرض لینے والے کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ عطیہ دےیا نہ دے۔