سوال

انسانی کٹے ہوئے بالوں یا کنگی کے ذریعے اترے ہوئے بالوں کی خریدوفروخت جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

جائز نہیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیہ)
”واما عظم الادمی وشعرہ فلا یجوز بیعہ لا للنجاسۃ لانہ طاھر فی الصحیح من الروایۃ لکن احتراماً لہ و الابتذا ل بالبیع یشعر بالاھانۃ.“
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(3/115،رشیدیہ)
”لا یجوز بیع شعور الانسان ولا یجوز الانتفاع بھا وھو الصحیح.“
وکذا فی المحیط البرھانی:(9/334،ادارہ القران)
وکذافی البحر الرائق:(6/133،رشیدیہ)
وفی کذا الھدایہ:(3/57،رحمانیہ)
وفی کذا النھر الفائق:(3/428،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/56،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الشامیہ:(7/244،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1443-2022/2/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:194

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔