سوال

ایک دفعہ انہوں (شوہر )نے کہا مجھے تمہارا بڑھاپا بہت تاریک نظر آرہا ہے میں نے کہا میرا بڑھاپا میری جوانی سے زیادہ تاریک نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا تم اپنی جوانی روشن کرلو جاؤ چلی جاؤ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے مجھ سے جولکھوانا ہو الکھوا لینا پھر ایک دفعہ ہماری لڑائی ہوئی انہوں نے کہا تم جس کے ماں ،باپ،بہن، بھائی مرے ہو اس سے شادی کرلو میری طرف سے عام اجازت ہے ۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا تم علیحد گی اختیا ر کرلو۔ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے ہماری لڑائی ہوئی میں نے کہا ہمارے خاندان میں کوئی ایسا نہیں کرتا انہوں نے کہا تم اپنے خاندان میں شادی کرلو پھر یہ کچھ بول رہے تھے لیکن مجھے سنائی نہیں دیا پھر انہوں نے کہا میری جان چھوڑو۔پھر لڑائی ہوئی انہوں نے کہا میری زندگی سے دفعہ ہو جاؤ میری جان چھوڑو۔مجھے ان کی نیت کی سمجھ نہیں آتی آپ خود ان سے نیت پوچھیں۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ فلاں میاں بیوی کا تعلق بہت اچھا ہے تو انہوں نے کہا تم اسی سے شادی کر والیتی میں اس کی بیوی سے کروالیتا۔ہم اب وٹا لیتے ہیں یا تبدیل کرلیتے ہیں۔ میں تینوں دنا ں طلاق تے انو کہناتو اپنی بیوی نو دے ۔ ایک دفعہ یہ میری امی سے کوئی بات کر رہے تھے لیکن امی کو سمجھ نہیں آئی بعد میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں کی۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ ایسے الفاظ کا استعمال نہایت نازک اور سنگین معاملہ ہےاس سے اجتناب کرنا چاہیےاور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر کے زندگی کزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لمافی التنویر و الدر :(4/541،رشیدیہ)
قال لھا اختاری او امرک بیدک ینوی) تفویض (الطلاق)لانھا کنایۃ فلا یعملان بلا نیۃ (او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ) مشافھۃ او اخبارا(وان طال) یومااو اکثر مالم یوقتہ و یمضی الوقت قبل علمھا (ما لم تقم) لتبدل مجلسھا حقیقۃ( او) حکمابان (تعمل ما یقطعہ) مما یدل علی الاعراض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(لا) تطلق (بعدہ) ای: المجلس ۔
وفی الفتاویٰ الھندیہ :(1/387،رشیدیہ)
اذا قال لامراتہ اختاری ینوی بذلک الطلاق او قال لھا طلقی نفسک فلھا ان تطلق نفسھا مادامت فی مجلسھاذلک و ان تطاول یوما او اکثر ما لم تقم منہ او تا خذ فی عمل آخر وکذا اذا قام ھو من المجلس فالامر فی یدھا ما دامت فی مجلسھا ۔
وکذافی بدائع الصنائع:(3/180،رشیدیہ)
وکذافی التاتا ر خانیہ:(4/476،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
4/9/1443-2022/4/6
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:81

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔