سوال

ایک آدمی نے طلاق نہیں دی ،اور کہتا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے تو اس کا کیا حکم ہے

جواب

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

اس کے اقرار کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(4/401،فاروقیہ)
”اذا قال لامرأتہ ”قد طلقتک “او قال ”انت طالق قد طلقتک امس “وھو کاذب کان طلاقا فی القضاء․“
وفی الفتاویٰ الھندیہ(4/207،رشیدیہ)
اذا اقر انہ طلقھا منذ ثلاثۃ اشھر فان کان تزوجھا منذ شھر لم یقع علیھا شئ وان کان تزوجھا منذ اربعۃ اشھر وقع الطلاق علیھا الا انھا ان صد قتہ فی الاسناد فعدتھا من حین وقع الظلاق علیھا وان کذبتہ فی الاسناد فعدتھا من وقت اقرار الزوج بہ
وکذا فی التنویر والدر(12/125،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(18/145،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(4/248،رشیدیہ)

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:71

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔