الجواب حامداًومصلیاً
صورت مسئولہ میں اگر کبھی کبھار ایسی صورت پیش آ جائے تو درست ہے لیکن دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اخلاقاً درست نہیں ، اگر مستقل یہی معمول بنا لیا کہ ہر قرض کا مطالبہ کرنے والے کو مہنگا بیچنا شروع کر دیا تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سود کمانے کا ایک حیلہ ہی بن جائے گا۔
لمافی التنویر والدر:(7/415،رشیدیہ)
شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ،ویکرہ واقرہ المصنف.
وفی الشامیۃ: قولہ (یجوز ویکرہ) ای: یصح مع الکراھۃ ،ھذا لو الشراء بعد القرض لما فی الذخیرۃ: وان لم یکن النفع مشروطاً فی القرض ولکن اشتری المستقرض من القرض بعد القرض متاعاً بثمن غال فعلی قول الکرخی: لا باس بہ،وقال الخصاف: ما احب لہ ذلک، وذکر الحلوانی انہ حرام
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/222،الطارق)
واختف آراء المشایخ فی شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض،قال فی الدر المختار یجوز ویکرہ
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/224،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(4/24،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیہ:(7/433،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/261،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(10/13،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25،7،1443/2022،2،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:7