الجواب حامداومصلیا
”قزع “اس طرح بال بنوانے کو کہتے ہیں،کہ سر کے بعض حصے کاحلق کروا لیا جائے اور بعض کوچھوڑ دیا جائے،لھذا صورت مسئولہ پر”قزع“ کاحکم تو نہیں لگے گا،البتہ اس طرح کی کٹنگ فیشن کےنام پر بالوں کے بیہودہ اسٹائل اور خالص غیر مسلموں اور فاسق وفاجر لوگوں کاشعار بن چکا ہے لھذاان کے ساتھ مشابہت کی بناء پر ناجائزہوگا۔
لمافی الصحیح المسلم:(2/203،قدیمی کتب خانہ)
عن ابن عمر انّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہی عن القزع قال قلت لنافع وما القزع قال یحلق بعض راس الصبی ویترک بعض
وکذافی الھندیة:(5/357،رشیدیہ)
ولابأس للرجل أن یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیرأن یفتلہ وان فتلہ فذلک مکروہ لانہ یصیر مشابہا ببعض الکفرۃوالمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(422،البشری)
وکذافی الشامیة:(6/407،ایچ،ایم سعید)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/401،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2678،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/212،فاروقیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(1/394،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12/5/1443-2021/12/17
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:16